انتظار
۔۔۔
سہانے موسموں کی راہ تکتے
مری آنکھیں بھی اب پتھرا گئی ہیں
مری آشاؤں کی کلیوں کے اوپر
خزائیں ہی خزائیں چھا گئی ہیں
سہانے موسموں کے راستوں میں
ابھی تو دور تک پتھر پڑے ہیں
ابھی تو دور تک خنجر گڑے ہیں
مگر اب بھی ہیں تیری راہ تکتے
مری پتھرائی آنکھوں کے جھروکے
کبھی تو آئیں گے مجھ کو منانے
دلِ ویران کا گلشن کھلانے
کبھی تو ختم ہو گی یہ اذیت
یہ لمبی انتظارِ یار کی رت۔۔۔!
Related posts
-
صغیر احمد صغیر ۔۔۔ اژدھا
اژدھا ۔۔۔۔ میں وہ نہیں صغیر، میں جو تھا بدل گیا یہ کیسی شکل ہے میں... -
نثار ترابی ۔۔۔ یقین سے پھوٹتے لمحے کا ادراک (فلسطین کے تناظر میں)
یقین سے پھوٹتے لمحے کا ادراک (فلسطین کے تناظر میں) ۔۔۔۔ اُڑان قاتل ہے یہ سفر... -
شائستہ رمضان ۔۔۔ نظم
نظم ۔۔۔ محبت رمز ہے گہری کبھی یہ فقر لگتی ہے صدائے کن کی چاہت میں...
